پاکستانکالمز/بلاگ

زیارات پر بائی روڈ پابندی: ایک غیر منصفانہ، غیر آئینی اور ناقابلِ قبول فیصلہ

تحریر: سید شکیل بخاری ایڈووکیٹ

یہ وہی وزیر داخلہ ہیں جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بلوچستان میں حالات قابو میں ہیں اور دہشت گرد محض ایک ایس ایچ او کی مار ہیں۔ آج وہی دہشت گرد آزاد گھوم رہے ہیں، اور ایس ایچ او تو دور، پوری ریاست زائرین کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ کبھی پارہ چنار کے باسیوں کو ان کے راستوں سے محروم کیا جاتا ہے، اور کبھی اربعین کے مقدس سفر پر جانے والے زائرین کو۔ ایسا لگتا ہے کہ مذہبِ حق، تشیع، کے پیروکاروں کے لیے اس ملک میں بار بار راستے بند کرنا ایک روایت بنتی جا رہی ہے۔

حکومت پاکستان کا زیاراتِ اربعین کے لیے بائی روڈ سفر پر اچانک پابندی عائد کرنا ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ، غیر آئینی اور افسوسناک قدم ہے، جس نے لاکھوں زائرین کے مذہبی جذبات، مالی وسائل اور ریاستی وعدوں پر اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ وہی حکومت ہے جو مہینوں پہلے سہ فریقی اجلاسوں اور میڈیا بیانات کے ذریعے یہ دعویٰ کر رہی تھی کہ اس سال زیارات کے لیے مثالی انتظامات کیے جائیں گے۔ لاکھوں زائرین نے انہی دعوؤں پر بھروسا کر کے ویزہ فیس، ہوٹل بُکنگ، انشورنس، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروریات پر کروڑوں روپے خرچ کیے، مگر ایک اچانک نوٹیفکیشن نے ان تمام کوششوں کو رائیگاں کر دیا۔

یہ فیصلہ نہ صرف انتظامی ناکامی ہے بلکہ ایک آئینی خلاف ورزی بھی ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 20 ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کے مطابق عبادات بجا لانے کی آزادی دیتا ہے۔ زیارتِ اربعین کوئی سیاحتی یا تفریحی سفر نہیں بلکہ ایک عقیدتی، روحانی، اور دینی فریضہ ہے۔ اس پر رکاوٹ ڈالنا محض انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ مذہبی آزادی پر حملہ ہے۔

زائرین اور منتظمین نے نہایت قلیل وسائل میں اس روحانی سفر کی تیاری کی، اور اب ان کا سرمایہ، وقت اور جذبات برباد کر دیے گئے ہیں۔ حکومت کے پاس اگر سیکیورٹی یا لاجسٹک خدشات تھے تو ان کا پیشگی تدارک، متبادل راستے یا شفٹ کرنے کا جامع منصوبہ دینا اس کی ذمہ داری تھی، نہ کہ آخری لمحے پر پابندی لگا دینا۔

یہ بار بار کا یوٹرن ریاست پر عوامی اعتماد کو توڑ رہا ہے ، ایران، عراق اور دیگر ممالک میں پاکستان کی ساکھ کو بھی مجروح کر رہا ہے۔ جب آپ بین الاقوامی وعدے کر کے پھر انہیں خود ہی توڑ دیں تو آپ کی بات کی سچائی پر کون یقین کرے گا؟

یہ فیصلہ پوری قوم کی شرمندگی، اضطراب اور ناامیدی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ریاستی اداروں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ مذہبی آزادی صرف تقریر یا عبادت گاہوں تک محدود نہیں، بلکہ عمل اور سفر کی آزادی بھی اسی کا حصہ ہے۔

ہم اس فیصلے کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر اس پابندی پر نظرِثانی کرے اور ایک شفاف، محفوظ اور باعزت پالیسی کے ذریعے زائرین کو ان کا آئینی و دینی حق واپس دیا جائے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button